Make your own free website on Tripod.com

پیار کہانی

مصنفہ: خالدہ حسین

وہ آدھی رات ہی ہو گی کہ جب اس کے ریشمی ہاتھوں کا لمس میری پیشانی پر شیریں سیال نشہ بن کر بہنے لگا۔

 میں گہری نیند سے بمشکل بیدار ہوا۔ چند لمحے اس شیریں لمس کے سحر کو پیشانی کے راستے تمام جسم میں سن سن اترتے محسوس کرتا رہا۔ پھر کہیں ڈوب جانے، نہ ہونے کے خوف سے ہولا کے اٹھ بیٹھا۔ وہ میرے سرہانے بیٹھی تھی۔

ہاں وہ میرے سرہانے بیٹھی تھی اور اس کے چاندنی ایسے ہاتھ۔ نرم، گداز، میری پیشانی کو دھیرے دھیرے سہلاتے تھے اور اس کے جسم کی گرم خوشبو سے کمرہ مہک ُاٹھا تھا۔ میری کنپٹیاں دھڑ دھڑ جل اٹھیں اور آنکھوں میں بخار سا چڑہ آیا۔

”اٹھو!” اس نے جادو بھری آواز میں سوکوشی کی۔ یوں کہ پھر میرا سر چکرا گیا۔

”اٹھو” اس نے چہرہ میرے قریب جھکاتے ہوۓ کہا۔

”یاد ہے اپنا وعدہ؟” میں نے بیڈ لیمپ کی مدھم روشنی میں اس کے چہرے کو دیکھا جو خوبصورت نہیں تھا مگر آدھی رات کے سحر میں وہ تمام دنیا۔ پورے امکانات کو سمیٹتا ہوا نظر آتا تھا اور میں اس آدھی رات کے سحر سے بہت خائف تھا۔ اس کا اندیشہ ہر دم میرے خون میں دھڑکتا رہتا۔ یہ خوف کہ ابھی آدھی رات آۓ گی اور وہ مجھے یوں جگا کر پوچھے گی ”اپنا وعدہ یاد ہے۔” وعدہ جو میں نے کبھی اس سے نہیں کیا تھا۔ جو اس نے خود ہی تصور کر لیا تھا اور اس کا بوجھ مجھ پر ڈال دیا تھا۔ اور جب بھی میں اس کے وجود کے سیال نشے میں بہ جانے کو ہوتا تو وہ مجھ سے پوچھتی۔ اسی وعدے کے متعلق۔

”اٹھو تو پھر چلیں” وہ اپنی گوری گداز باہیں میری طرف پھیلاتی۔

”دیکھو۔ تم نہیں جانتیں” میں تقریباً ٹوٹتے ہوۓ، زیرہ زیرہ بکھرتے ہوۓ کہتا۔ وہ خاموش میرے پاس آبیٹھتی۔ اس کی میٹھی گرم خوشبو میں میں نیم بے ہوش سا ہو جاتا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ کہتی۔ ”تم جانتے ہو؟ تمہیں یاد ہے؟ سب سے پہلے جب ہم ملے تھے تو تم نے کہا تھا۔ ”ہاں میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔” کہا تھا؟۔۔۔دیکھو بس اب تو تھوڑا سا فاصلہ رہ گیا ہے اب میں تمہیں پریشان نہ کروں گی۔ سچ کہتی ہوں، مجھے راستہ اچھی طرح معلوم ہے۔"

”لیکن! یہاں ہم کتنے امن سے، خوشی اور چین سے ہیں، یہ تو سوچو۔ اور جب بھی میں بہت خوش ہوتا ہوں اور جانتا ہوں کہ تم بس میرے لیے ہو، تم اٹھ کر چل دیتی ہو۔ میں اس روز روز کی مسافری سے تنگ آگیا ہوں۔ خدا کے لیے کچھ تو سوچو۔ تمہیں میرا سکھ چین نہیں بھاتا؟”

اِس پر وہ ایک دم چونک جاتی۔ اس کی چمکتی آنکھیں آنسوؤں سے اور بھی چمک اٹھتیں۔

”یہ تم نے کیسے کہ دیا؟” وہ میرا سر نرمی سے اپنی گود میں رکھ لیتی۔ اس کے جسم کی خوشبو بھری آنچ میرے ہواس معطل کرنے لگتی۔

”یہ تم نے کیسے کہ دیا؟ کیا میں نے تمہیں پہلے کبھی نہیں بتایا کہ تم تو اس دنیا کے ساتھ میرا ناطہ ہو، ورنہ میں ریزہ ریزہ اڑتی پھروں۔ جس طرح زمین کی کشش ختم ہو جاۓ یا جسم کا وزن مر جاۓ۔ تو تم میرے وجود کا وزن ہو اور صرف اسی لیے میں تمہارے ساتھ سفر کر رہی ہوں۔”

”سنو، میری بات سنو۔ تمہیں کچھ پتہ وتہ تو ہے نہیں۔ جانا کہاں ہے؟ کدھر سے جانا ہے؟۔ اور آج کل راستے ایسے خطرناک ہیں، جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹی ہیں۔ ُپل ناقابلِ اعتبار۔ نہ کوئ جگہ کا نام پتہ دیتی ہو۔ میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔”

”دیکھو!۔ مجھے سب معلوم ہے اب کے۔ میں تمہیں بالکل نہیں ستاؤں گی۔ بس سیدھی سڑک ہے۔ بائیں ہاتھ پر جب آبادی شروع ہو جاۓ تو ذرا آدھا میل آگے چل کر ایک بستی ہے۔ وہی ہے بس۔ بالکل۔ اب اٹھو۔”

یہ آدھی رات کا سفر میری سمجھ میں ذرا بھی نہ آیا۔ مگر میں تو جیسے کسی مقناطیس سے کھنچا چلا جاتا تھا۔ مجھے اپنے وہ سب دوست احباب بہت یاد آۓ جو آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے عورت کے جادو سے بچنے کی تنبیہ کیا کرتے تھے۔ اشاروں کنایوں سے سمجھاتے تھے کہ میاں! عورت کے سامنے ذرا دل مضبوط اور ہوش و حواس قائم رکھنے پڑتے ہیں۔ لیکن میں بہ قائمی ہوش حواس اس کے ساتھ ساتھ ہو لیتا تھا کیونکہ اس کی بہت سی باتیں سمجھ میں نہ آنے پر بھی دل کو بھاتی تھیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ کہ میرے ُان بھلا چاہنے والوں نے نہ تو اس کا وہ جادو بھرا لہجہ سنا تھا نہ میٹھے خوشبو اڑاتے بول۔ جب وہ اپنی خوبصورت باہیں میری جانب بڑھاتی تو جی چاہتا دنیا کا ہر ان ہونا کام اس کی خاطر کر گزروں۔ یہ ان جانا، بے منزلہ سفر تو کوئ حقیقت نہ رکھتا تھا۔

اور اب تو واقعی اس کے بتاۓ ہوۓ تمام نشانات بھی درست ہی نکلے۔ سڑک ٹوٹی پھوٹی تھی تو کوئ بات نہیں۔ گاڑی کون سی نئ تھی کہ اس کے ٹوٹنے پھوٹنے کا خترہ ہوتا۔ ہاں یہ خدشہ تھا کہ کہیں راستے میں رک رکا گئ تو ایک مصیبت ہو گی۔ جب بھی کہیں گہرا کھڈا آتا تو وہ ایک دھچکے کے ساتھ میری گود میں آن گرتی۔ میرا جی چاہتا ڈرائیونگ بند کر دوں، رک جاؤں۔ مگر پھر وہ مسکرا کے، سنبھل کے ہو بیٹھتی۔ آج اس کی آنکھوں میں عجب سرور بھری محبت تھی۔ ہلکی ہلکی خنکی کے باوجود اس کی پیشانی اور ہونٹوں کے اوپر پسینے کی نمی آجاتی اور وہ رومال سے چہرہ پونچھے جاتی۔

”وہ دیکھو! وہ دائیں ہاتھ! اس پہاڑی پر وہ جھونپڑی ہے نا؟ اور اس میں روشنی بھی ہے۔ یہ تو پکی نشانی ہے” اس نے عجب سی سرگوشی کے عالم میں کہا۔

”ہاں بھئ ہے تو سہی۔ مگر ابھی آگے آگے دیکھو کیا ہوتا ہے۔ لو یہ سگریٹ سلگاؤ۔”

اس نے سگریٹ سلگا کر میرے ہونٹوں میں دبا دیا۔ ہوا خاصی خنک ہو چلی تھی۔

”سردی ہے بھئ!” میں نے جھر جھری لی تو اس نے اپنی نازک سی جھلملاتی شال میرے کاندھون پر ڈال دی اور کچھ دیر میرے شانے کے ساتھ سر لگاۓ بیٹھی رہی۔ اس کے لمس میں ایک عجب طرح کی الوداعی کیفیت تھی۔ میں نے جھک کر دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔

”کیوں بھئ یہ کیا ہو رہا ہے”

”کچھ نہیں” وہ ایک دم مسکرادی۔ ”میں سوچ رہی تھی، تم میرے وجود کا وزن ۔ ۔ ۔ ہو۔ اس دنیا کے ساتھ میرا ناطہ ۔ ۔ ۔ اسی لیے جب میں پرزہ پرزہ ہونے لگتی ہوں، تم سے چمٹ جاتی ہوں۔ مگر۔ ۔ ۔ مگر آخر تو مجھے پرزہ پرزہ ہونا ہی ہے” وہ ایک دم خاموش ہو گئ۔

”کچھ ضروری نہیں محترمہ!” میں نے ہنسی میں بات ٹالنا چاہی۔

”ہاں بہت ضروری ہے۔ دراصل تو یہ سب کچھ اسی عمل کی تیاری ہے۔ ہر کام، ہر بات، ہر فعل۔ کیونکہ ہر شخص خود اپنے سامنے جواب دہ ہے۔ ۔ ۔ اور جو ہے سو ہے، اور اس کے علاوہ بھی جو کچھ ہے سو ہے۔ ٰلہزا تمام امکانات تمام ہو جاتے ہیں۔ ہر شے اٹل ہے۔”

”اب تم زیادہ ہی بہکی جا رہی ہو۔ لو سگریٹ سُلگاؤ۔”

”وہ دیکھو! وہ کچی آبادی آگئ ہے نا۔ ۔ ۔ ذرا آگے جا کر دائیں ہاتھ کو وہ دروازہ ہے۔” وہ سنبھل کر ہو بیٹھی۔

”واہ بھئ!۔ ۔ ۔ اب کے تو تم نے کمال ہی کر دیا۔” اس نے اپنے یخ ہاتھوں میں میرا ہاتھ پیار سے سہلایا۔ ایک جھر جھری میرے تمام جسم میں دوڑ گئ۔ ۔ ۔ دبی دبی سی دہشت آمیز جھر جھری۔

”مگر تم مجھے یہاں لائ کیوں ہو؟” میں جیسے ایک دم ہوش میں آگیا۔

”میں صرف تمہیں نہیں لائ۔ ہم دونوں آۓ ہیں۔ اگر تم نہ آتے تو میں کب آسکتی تھی۔ میں تو تمہارے طفیل یہاں تک پہنچی ہوں۔”

”عجب بے معنی بات ہے بھئ۔ ۔ ۔ یہ تم مجھے لفظوں کے چکر میں نہ الجھایا کرو۔ میں تو سیدھا سا آدمی ہوں۔”

”لفظوں سے آزاد ہونے کو تو یہاں تک آنا پڑا ہے!” ایک اداس مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئ۔

”وہ دیکھو دروازہ!۔ ۔ ۔ بس ادھر رک جاؤ۔”

میں نے گاڑی روک دی اور سر سیٹ کے ساتھ لگا کر ذرا آنکھیں بند کر لیں۔

”کھٹ کھٹ!” وہ شاید لوہے کا ذنگ آلود خوردہ دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی، جس کے دونوں طرف سے اونچی اونچی پّکی فصیل نما ایک چار دیواری شروع ہوئ تھی۔ میں نے تھکن کے مارے غور سے دیکھا بھی نہیں۔ چرر۔ ۔ ۔ چرر۔ ۔ ۔ دروازہ اپنے قدیم قبضوں پر گھوم کر ذرا کھلا۔ پھر اس کے اور کسی اور کے بولنے کی آواز آئ۔

”ہاں! یہ رہا میرا شناختی کارڈ۔ میں ٹھیک وقت پر پہنچی ہوں۔ وہ۔ ۔ ۔ وہ میرا ساتھی ہے۔ یہ اس کا کارڈ دیکھو۔”

تھوڑی دیر میں دروازہ آدھا کھول دیا گیا۔ وہ تھکے قدموں میری طرف آئ۔

”اب آگے پیدل کا راستہ ہے، گاڑی بند کر دو۔ اس طرف کے شیشے میں چڑھاتی ہوں۔” گاڑی اچھی طرح بند کر کے میں اس کے ساتھ ساتھ اس ادھ کھلے دروازے کے اندر داخل ہوا۔

کچھ تھوڑا سا ویران، خاک اڑاتا ہوا میدان چھوڑ کر سامنے بوسیدہ سی عمارت کھڑی تھی۔ کچھ لوگ نہایت مشغول خاموشی سے ِادھر ُادھر چل پھر رہے تھے، گویا کسی بڑے کام کی تیاری میں مصروف ہوں۔ قریب جانے پر ایک دروازے پر ”دفتر” لکھا نظر آیا۔

”میں ابھی آئ۔” وہ یہ کہہ کر اندر داخل ہو گئ۔

اب مجھے تھکن کے مارے نیند آرہی تھی۔ ابھی صبح ہونے میں خاصی دیر تھی۔ عمارت کے باہر دو کھمبوں پر زرد زرد بلب جل رہے تھے۔ میں اس کے انتظار میں ایک درخت کے ساتھ سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔

اچانک ہی وہ سب لوگ جو اِدھر اُدھر چلتے پھرتے نظر آتے تھے، سامنے ایک جگہ پر جمع ہونا شروع ہو گۓ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے خاصا انبوہ ہو گیا۔ میں بھی ذرا قریب سے دیکھنے کی خاطر آگے چل دیا۔ دیکھا تو سامنے ایک چھوٹا سا چبوترہ ہے کہ سبھی لوگ اس کی جانب ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ پھر سب کے سروں کو دائیں جانب جنبش ہوئ۔ ہاں! میری نظریں دھوکہ نہیں کھا سکتیں۔ وہ۔ ۔ ۔ وہی تھی! جو چپ چاپ نظریں جھکاۓ چبوترے کی طرف آرہی تھی تب میری نظر چبوترے پر گڑے لوہے کے اس چوکھٹے اور اس کے ساتھ لٹکتے ہوۓ موٹے سے رّسے کے پھندے پر پڑی۔

”نہیں!” چیخ میرے حلق میں پھنس کر رہ گئ۔ مگر وہ چبوترے پر پہنچ چکی تھی۔ دونوں طرف سے دو آدمیوں نے اس کو تختے پر لا کھڑا کیا۔ ”نہیں نہیں” میں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔

”مگر کیوں؟۔ ۔ ۔ کیوں؟” میرے حلق سے زخمی کراہ نکلی۔ اور میں اندھا دھند ہجوم کو چیرتا آگے بڑھا۔ بڑھتا گیا۔ وہ جو ایک چھوٹا سا ہجوم تھا نہ معلوم کیسے جنگلوں سے زیادہ گھنا ہو گیا۔ میں بانہوں سے راستہ چیرتا آگے بڑھتا گیا۔ مگر کب تک؟ معلوم نہیں اس چبوترے تک کتنے برسوں کا سفر تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو تمام تماشائ جا چکے تھے۔ میں نے اس کے سرد جسم کو بانہوں پر اٹھا لیا۔ اس کے لمبے لمبے بال کھل کر میرے باروؤں سے نیچے تک گر رہے تھے۔ میں نے اس کے زرد، نیلے پڑتے چہرے کی جانب نگاہ کی، ان دھندلی اور ادھ کھلی آنکھوں کی جانب جو ستارہ سی دمکا کرتی تھیں مگر اب ایک میلا، دھند میں لپٹا شیشہ تھیں۔ ”یہ تم کہاں آگئیں تھیں؟” میں۔ ۔ ۔ نہیں۔ نہ معلوم کون میری کنپٹیوں میں دھڑکتے لہو اور آنکھوں کی جلن اور شہ رگ کے رواں دواں لاوے میں دھک دھک پوچھتا تھا، بولتا تھا۔ ۔ ۔ ”یہ تم کہاں آگئیں تھیں؟”

تب ایک دم خون میری رگوں میں جم گیا۔ میری نظر اس کے ہونٹوں سے چپک کر رہ گئ۔ وہ ہل رہے تھے کچھ کہتے تھے۔ میرے پتھر ہوتے سر میں اتنی سکت کہاں کہ میں جھکتا اور اس کے چہرے سے قریب تر ہو جاتا اور سنتا کہ ہو متحرک لب کیا کہتے ہیں۔ میرے ہاتھ، پاؤں، بازو سب میرا ساتھ چھوڑ گۓ۔ دہشت زدہ میں نے اسے وہیں چبوترے پر لٹا دیا اور چاروں سمت نظر دوڑائ۔ وہاں تو کوئ نہ تھا جس کو میں پکارتا اور پوچھتا کہ اے لوگو! بولو یہ زندوں میں ہے یا نہیں۔ ۔ ۔ کیا میں اسے اٹھا لوں؟

مگر لق ودق ویرانے میں، میں تنہا تھا شور میری پکار کا کوئ جواب نہ تھا۔ اسی لیے ان ہلتے ہونٹوں کو اسی طرح متحرک چھوڑ کر چلا آیا۔ ۔ ۔ چلا آیا اور اب تک حیران ہوں۔ سوچتا ہوں وہ زندوں میں ہے یا نہیں؟ کیا مجھے اسے اٹھا لانا چاہیے؟